عدلیہ کے خلاف تقاریر، عمران خان سے جواب طلب - Knowledge Factory

Monday, May 9, 2022

عدلیہ کے خلاف تقاریر، عمران خان سے جواب طلب


چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے سابق وزیراعظم عمران خان سے جواب طلب کر لیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پی ٹی آئی قیادت پر درج توہین مذہب مقدمات کے خلاف فواد چوہدری کی درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین اور پٹیشنر فواد چوہدری کی جانب سے مستقل عدالت کے متعلق کہا جا رہا ہے ، وہ یہ پیغام دے رہے ہیں کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کمپرومائز تھیں، یہ کورٹ 24 گھنٹے کام کر سکتی ہے، اگر کسی سائل کو کچھ بھی اعتراض ہو تو عدالت اس کو دیکھ سکتی ہے، عدالت کو عوام کا اعتماد بھی دیکھنا ہے، کل تک وقت دیتے ہیں اگر عدالت پر اعتماد نہیں تو بتائیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ 2014ء کے دھرنے میں اسی عدالت نے رات 11 بجے ریلیف دیا تھا ، اگر آپ کو تھوڑا سا بھی شک ہے کہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کمپرومائز تھیں تو بتا دیں، 9 اپریل کو چار پٹیشن اس روز آئیں تھیں جن میں سے ایک پٹیشن اگلے روز جرمانے کے ساتھ خارج کی تھی، کچھ غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ بھی ہوئی ہے کچھ تجزیہ کاروں نے تو ایسا ماحول بنا دیا تھا کہ مارشل لاء لگنے والا ہے ، کیا یہ نہیں کہا جا رہا کہ ہائی کورٹ سپریم کورٹ رات کو کھل گئی تھیں؟

وکیل فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ آپ کی ہدایت پر میں پٹیشنر سے دوبارہ پوچھ لوں گا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جلسوں میں ورکرز کو کہا جا رہا ہے کہ  عدالتیں کمپرومائز تھیں، باہر سیاسی بیانئے کچھ ہوتے ہیں یہاں کچھ ہوتے ہیں، زیادہ اصل کیسز کے ایشوز کو کسی ایگزیکٹو نے نہیں چھیڑا ، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان مسلسل عدالت پر سوال اٹھارہے ہیں، کیا عمران خان اور پی ٹی آئی کو عدالت پر اعتماد نہیں ؟ آج ہم کیس نہیں سنیں گے پہلے چیئرمین تحریک انصاف سے پوچھیں کہ اعتماد ہے یا نہیں؟
پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ عدالت پر اعتماد ہے آپ کیس سنیں، میری درخواست ہو گی کہ ان کو بھی لاپتہ افراد کے ساتھ ہی رکھ لیں، آج کل جو کچھ ان کے ساتھ ہو رہا ہے وہی صورت حال ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ایسا نہ  کہیں وہ الگ ہیں، عام آدمی کا عدالت پر اعتماد خراب نہ کریں، سیاسی رہنما جلسے میں کھڑے ہوکر ورکر کو بتائے کہ عدالت نے سمجھوتا کیا ہے تو یہ افسوسناک ہے، اس کورٹ نے کل خود تقریر سنی ہے اس عدالت کو ہر جمہوری پارٹی کے لیڈر کا احترام ہے، آپ کی پارٹی کے لوگ سمجھتے ہیں میرا کوئی مانچسٹر میں فلیٹ ہے، مجھے افسوس ہے کہ قابل احترام جسٹس منصور علی شاہ صاحب کے حوالے سے بھی بات کی جاتی ہے، آپ کو بتایا ہے 2014 میں اسی پارٹی کے ورکرز کے خلاف ایف آئی آر تھی شام کو ریلیف دیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصل چوہدری کو ہدایات لیکر آگاہ کرنے کا حکم دے دیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو عدالت پر اعتماد ہے یا نہیں۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر اعتماد نہیں تو کسی اور عدالت میں کیس بھیج دیں گے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فواد چوہدری کو گرفتاری سے روکنے اور ہراساں نہ کرنے اور شہباز گل کو گرفتاری سے روکنے کے حکم میں بھی 12 مئی تک توسیع کردی۔ عدالت نے وزارت داخلہ ، آئی جی اسلام آباد سمیت فریقین کو 12 مئی تک جواب جمع کرانے کیلئے دوبارہ نوٹس جاری کردئیے۔
مزید خبریں پڑھنے کے لیے آگے خبرنامہ پر کلک کریں: خبرنامہ

 

No comments:

Post a Comment